انٹرنیٹ بڑے سائبر حملے کی زد میں، ٹوئٹر سمیت درجنوں ویب سائیٹس غیر فعال

انٹرنیٹ اس وقت ایک بڑے سائبر حملے کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں بہت سی مشہور ویب سائیٹس وقتی طور پر غیر فعال ہوچکی ہیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق ٹوئٹر، ایمازون، نیٹ فلکس، ٹمبلر، ریڈاٹ اور دیگر بڑی ویب سائیٹس تک اس وقت رسائی نہ ممکن ہے اور اسکی وجہ DDoS یعنی ڈسٹریبیوٹڈ ڈینائل آف سروس اٹیکس ہیں۔

cyber-attack

ڈی ڈاس حملے سے کیا مراد ہے؟

اس حملے میں دنیا بھر سے بہت سے  کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک ویب سرور پر مرکوز کردیا جاتا ہے۔ جسکی بدولت سرور اتنی زیادہ ٹریفک کو سنبھال نہیں پاتا اور نیتجہ کے طور پر وہ سرور تمام صارفین کے لیے وقتی طور پر ڈاؤن ہوجاتا ہے۔

اس حملے کو روکنا اس لیے بھی محال ہوجاتا ہے کہ ہیکرز دنیا بھر سے مختلف آئی پی ایڈریس استعمال کرتے ہوئے ویب سائیٹ پر بے تحاشا ٹریفک بھیج رہے ہوتے ہیں اور اگر ایک آئی پی کو بلاک کربھی دیا جائے تو اسکی جگہ مزید آئی پیز حملے میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ اس قسم کے حملے کے لیے اکثر ہیکرز مل کر منصوبہ بندی کرتے ہیں یا عام صارفین کے ہیک کیے گئے کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر گیجٹس بھی اسکے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

ٹوئٹر اور دیگر ویب سائیٹس غیر فعال کیوں ہوگئیں؟

عام طور پر ڈی ڈاس حملہ کسی ایک ویب سائیٹ پر کیا جاتا ہے، تاہم اب کی بار یہ حملہ ڈی این ایس (DNS) فراہم کرنے والی کمپنی Dyn کے سرورز پر کیا گیا ہے۔ ڈی این ایس آپ کے براؤزر میں لکھے جانے والے ویب سائیٹ کے نام کو اسکے آئی پی ایڈریس سے جوڑتا ہے، تاہم اس حملے کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوپارہا اور Dyn کی سروس استعمال کرنے والی تمام ویب سائیٹس تک رسائی ناممکن ہوچکی ہے۔

سروس فراہم کرنے والی کمپنی Dyn کے مطابق یہ حملہ گذشتہ چند گھنٹوں سے جاری ہے اور خاص طور امریکی صارفین اس سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی اپنی تفتیش کاآغاز کردیا ہے۔

یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ پچھلے ماہ امریکی سائبر کرائم رپورٹر برائن کربز کی ویب سائیٹ پر بھی ایسا ہی حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد ہیکرز نے ان حملوں کا کوڈ بھی انٹرنیٹ پر جاری کردیا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ آج ہونے والے سائبر حملے میں یہی کوڈ استعمال کیا گیا ہے، تاہم ان حملوں کے پیچھے کونسی قوتیں کار فرما ہیں ابھی اسکا تعین نہیں کیا جاسکا۔

کیا آپ کے پاس انٹرنیٹ صحیح رفتار سے چل رہا ہے اور کیا آپ ان ویب سائیٹس تک باآسانی رسائی حاصل کرپا رہے ہیں؟

  • Usman Khalil

    ویسے یہ کام کسی بڑے گروپ کا ہوگا کہ نھیں؟ لیکن حیرانی مجھے اس بات پر ہے کہ ٹوئٹر جیسی بڑی ویپ سائٹ بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔