ٹوئٹر نے پی ٹی اے کی درخواست پر گستاخانہ مواد اور اکاؤنٹس کو پاکستان میں بلاک کر دیا

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر نے حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر گستاخانہ ٹوئٹس اور چند اکاؤنٹ کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں پی ٹی اے نمائندہ کی جانب سے ٹوئٹر کو 5 درخواستیں موصول ہوئیں جس میں گستاخانہ مواد اور اکاؤنٹس کو پاکستان میں بلاک کرنے کو کہاگیا۔ ذراع کے مطابق ٹوئٹر نے ان تمام درخواستوں پر عمل کیا ہے اور گستاخانہ مواد، خاکے اور تصاویر کے ساتھ ساتھ چند صارفین کے اکاؤنٹس کو بھی پاکستان میں بلاک کردیا ہے۔ یعنی یہ اکاؤنٹ اور ٹوئٹس اب پاکستان میں صارفین کو نہیں دکھائی جائیں گی۔

twitter
یاد رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے 2012 میں متعارف کروائی گئی سنسرشپ پالیسی کے تحت کمپنی اس بات کی پابند ہے کہ وہ کسی حکومتی ادارہ کی درخواست پر گستاخانہ مواد کو بلاک کرے۔ کیونکہ اس سے قبل ٹوئٹر کو مختلف ممالک میں محض اسلیے بلاک کردیا گیا تھا کہ اس نے گستاخانہ مواد ہٹانے سے انکار کیا۔ ٹوئٹر کی جانب سے ان تمام درخواستوں کا ریکارڈ اس ویب سائیٹ پر شائع بھی کیا جاتا ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے تو گستاخانہ مواد کو فوری طور پر بلاک کر دیا گیا ہے تاہم ایک پاکستانی این جی او، بولوبھی نے پی ٹی کے کردار پر یہ سوال اُٹھایا کہ اسکے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ ٹوئٹر یا کسی اور ادارے کو انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کا مواد بلاک کرنے کا حکم دے۔

اس معاملے پر آپکی رائے کیا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں انٹرنیٹ قوانین کی غیرموجودگی میں حکومت یا کسی اور ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر سنسرشپ لگا سکے یا پھر عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گستاخانہ مواد کو فی الفور بلاک کروادیا جائے؟